ابنا: ماہ مبارک رمضان آدھے سے زیادہ گزر چکا ہے اور ممکن ہے ابھی بھی بہت سارے لوگ ان بابرکت ایام سے کما حقہ فائدہ نہ اٹھا پائے ہوں۔ آپ کی نظر میں ایسے افراد کو کیا کرنا چاہیے؟بسم اللہ الرحمن الرحیمپیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے ماہ شعبان کے آخری دنوں میں خطبہ دیا اور لوگوں کو اس مہینہ میں کچھ کام کرنے کی تاکید کی آپ نے فرمایا: ’’تم لوگوں کو اللہ کی مہمانی پر دعوت دی گئی ہے‘‘ ۔ جب آپ کو کہیں مہمانی پر بلایا جاتا ہے تو آپ خود کو مہمانی کے لیے تیار کرتے ہیں اور جہاں آپ کو دعوت دئی گئی ہوتی ہے آپ تیار ہو کر وہاں پہنچتے ہیں۔ مثال کے طور پر اپنے آپ کو صاف سھترا کرتے ہیں، مناسب لباس پہنتے ہیں۔ یہ مہمانی کے آداب ہیں۔یہ آداب جسم کے لیے بھی ہیں اور روح کے لیے بھی۔ لہذا ضیافت الہی میں حاضر ہونے کے لیے پہلے انسان کو چاہیے کہ خود کو اس مہمانی کے لیے آمادہ کرے۔ اور اپنی روح کو پاکیزہ کرے تاکہ خدا کی مہمانی میں حاضر ہونے کے لیے آمادہ ہو۔ روح کی پاکیزگی گناہ نہ کرنے کے ذریعے حاصل ہوتی ہے توبہ کرنےسے حاصل ہوتی ہے۔لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ ماہ رمضان میں سب سے زیادہ جس چیز کی تاکید کی گئی ہے وہ ’’ گناہ نہ کرنے‘‘ کی تاکید ہے۔ ماہ رمضان کے علاوہ اگر کوئی گناہ نہیں کرتا ہے تو اس کا ثواب اس کو نہیں ملتا لیکن ماہ رمضان میں گناہ نہ کرنےکا بھی ثواب ملتا ہے۔ اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ اس مہینے میں سانسیں لینا اور سونا بھی عبادت ہے۔لہذا جو لوگ اس مہینے سے بہتر فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ان کے لیے سب سے بہترین نصحیت یہ ہے کہ گناہ نہ کریں۔ابنا: آج کی رات شبہائے قدر میں سے ایک ہے، اس رات خدا ہم سے کیا چاہتا ہے اور ہمیں کس مرتبے پر پہنچنا چاہیے تاکہ خدا کی رضا حاصل ہو؟خداوند عالم سورہ قدر میں ارشاد فرماتا ہے: «لَيلَةُ الْقَدر خَيرٌ مِن أَلْفِ شَهر * تَنَزَّلُ الْمَلائكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بإذنِ رَبِّهِم مِن كُلِّ أَمر» انسان کو اسی ’’کل امر‘‘ تک پہنچنا چاہیے۔ ’’کل امر‘‘ کا کیا مطلب ہے؟ کل امر یعنی تمام مراتب، یعنی اعلی مرتبہ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے تمام امور میں اعلی مرتبے پر پہنچیں۔ مثلا خدا کی معرفت کے اعلی مرتبے پر پہنچیں۔ اس صورت میں خدا ہم سے راضی ہو گا۔ابنا: وہ اعلی مرتبہ جس تک شب قدر میں ہمیں پہنچنا چاہیے کیا ہے؟شب قدر میں جس اعلی درجے کو ہمیں حاصل کرنا چاہیے وہ ’’ دنیا اور آخرت کی سعادت‘‘ ہے قدر یعنی اندازہ لگانا۔ پہلے اندازہ لگایا جاتا ہے پھر فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے’’ قضا و قدر‘‘۔ لہذا شب قدر میں امور کو ترتیب دیا جاتا ہے خداوند عالم حکم کرتا ہے کہ یہ کام ہونا چاہیے یہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں شب قدر میں دنیا اور آخرت کی ہر بھلائی کو خدا سے حاصل کرنا چاہیے۔ابنا: کیا یہ دنیا اور آخرت کی بھلائی وہ چیز ہے جسے ہم چاہتے ہیں یا جسے خدا چاہتا ہے؟شاید دنیا اور آخرت کی بھلائی ہماری نظر میں کبھی وہ چیز ہو جسے ہم بھلائی سمجھتے ہیں لیکن درحقیقت وہ ہمارے حق میں برائی ہو جیسا کہ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے: «عَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيئاً وَهُوَ خَيرٌ لَكُم» ( چہ بسا تم ایک چیز کو ناپسند کرتے ہو جبکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہو)۔ اور کبھی انسان سوچتا ہے کہ یہ چیز اس کے لیے بہتر ہے جبکہ وہ اس کے لیے شر اور نقصان دہ ہوتی ہے: «عَسَى أَنْ تُحِبُّوا شَيئاً وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ»؛ ( چہ بسا تم کسی چیز کو پسند کرتے ہو حالانکہ وہ تمہارے لیے شر اور نقصان دہ ہو)۔ مثلا اس شخص کی طرح جو شگر کا مریض ہے لیکن میٹھی چیزیں کھانے سے لذت اٹھاتا ہے اور سوچتا ہے کہ میٹھائی اس کے لیے بہتر اور اچھی چیز ہے لیکن حقیقت میں وہ اس کے لیے ضرر رکھتی ہے اور شر ہے۔بعض اوقات میں ایک واقعے اور حادثے کو ناپسند کرتا ہوں لیکن جب اس میں میرے لیے خیر اور بھلائی ہے تو مجھے راضی ہونا چاہیے۔ لہذا بہتر ہے کہ انسان ہمیشہ مقدرات الہی کے سامنے تسلیم رہے۔ اس بنا پر دنیا اور آخرت کی بھلائی وہ چیز ہے جو خدا ہماری دنیا اور آخرت کے لیے معین اور مقدر کرے۔ابنا: آپ اس بات کو مانتے ہیں کہ یہ اللہ کے فیصلوں پر راضی رہنا، کہنا تو بہت آسان ہے لیکن اس پر عمل کرنا بہت مشکل ہے؟ ہمیں کیا کرنا چاہیے تاکہ ہم اس کی رضا پر راضی ہو جائیں؟یہ چیز زیادہ انسان کے علم و معرفت سے تعلق رکھتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ سمجھے اور باور کرے۔ اس سمجھنے اور باور کرنے کو ’’یقین‘‘ کہا جاتا ہے۔ آپ کچھ ایسے افراد کو پیش نظر رکھیں جو گھنٹوں کلاس اٹینڈ کرتے ہوں، سبق پڑھتے ہوں، صبح سویرے اٹھتے ہوں، سکول جاتے ہوں، امتحانات پاس کرتے ہوں۔ مگر یہ کام سخت نہیں ہے؟ پھر کیوں یہ زحمت اٹھاتے ہیں؟ اس لیے کہ ان کا مقصد علم کے بلند درجات کو حاصل کرنا ہے۔ اور وہ یقین رکھتے ہیں کہ ان درجات تک پہنچنے کے لیے انہیں یہ زحمتیں اٹھانا ہوں گی۔ہمیں یقین پیدا کرنا چاہیے کہ ہماری موت کے بعد اس دنیا کے علاوہ بھی ہماری لیے ایک بہتر زندگی ہو گی کہ جس کے بارے میں ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ اگر یہ یقین ہمارے اندر پایا جاتا ہو توہم کوشش کریں گے کہ اپنی اِس زندگی کو بدلیں اور اُس زندگی کی آسائش کو حاصل کرنے کے لیے کوشش کریں گے۔لہذا قضائے الہی پر راضی ہونے کے لیے جو چیز اہم ہے وہ ’’معرفت‘‘ ہے۔ خدا کی معرفت اور زندگی کی معرفت۔ دوسری بات یہ کہ سعادت مند ہونےکے لیے خدا کے طریقہ کار کو آسانی سے قبول کریں۔ ہمیں یہ یقین کرلینا چاہیے کہ جو کچھ خدا ہمارے لیے مقرر کرتا ہے وہی ہمارے لیے بہتر ہے ہمیں اسی پر راضی ہونا چاہیے۔البتہ جیسا کہ آپ نے کہا اس مقام پر پہنچنا کوئی آسان بات نہیں ہے۔ پیغمبراکرم(ص) اسی خطبہ شعبانیہ میں فرماتے ہیں: « إنّ أنفسكم مرهونةٌ بأعمالكم فَفُكُّوها باستغفاركم». یعنی تمہاری جانیں تہمارے اعمال کی مرہون منت ہیں ۔ پس یہ ہمارے اعمال ہیں جو ہمیں اس درجے تک پہنچنے میں ہماری مدد کریں گے۔ابنا: مثلا کیا اعمال؟استغفار،تلاوت قرآن، دعا کرنا، گناہ نہ کرنا وغیرہ وہ اعمال ہیں جو اس راہ میں ہماری مدد کرتے ہیں۔ اور ایک اہم عمل جو روایات میں وارد ہوا ہے وہ ’’ خدمت خلق‘‘ ہے۔
